اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،صہیونی کے وزیر نے کہا ہے کہ لبنان میں موجودہ جنگ بندی کا معاہدہ مزید جاری نہیں رہ سکتا اور انہوں نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی حمایت کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ توانائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کا لبنان پر مکمل قبضے کا ارادہ نہیں، تاہم غزہ کی پٹی پر مکمل سکیورٹی کنٹرول قائم کرنا اس کے اہداف میں شامل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل مستقبل میں غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے اور جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون سے انخلا فی الحال حکومتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا کی جانب سے بھی انخلا کی درخواست کی گئی تو اسرائیل اسے قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا قبضہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی افواج بلا شرط لبنان سے مکمل انخلا کریں اور فضائی، زمینی اور بحری حملے بند کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا کوئی امکان نہیں، اور لبنان میں اسرائیلی افواج کی معمولی موجودگی بھی ناقابل قبول ہے۔
آپ کا تبصرہ